مصطفیٰ ارباب پچھلی دو دہائیوں میں نثری نظم کے حوالے سے سامنے آنے والے شاعروں میں اہم نام ہے۔ وہ 1967ء میں ضلع میرپور خاص سندھ کے ایک گاؤں پھلاڈیوں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ، اس کے بعد میرپور خاص چلے گئے اور گریجویشن تک وہیں سے تعلیم حاصل کی ۔ سندھ یونی ورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ آج کل میرپور خاص میں قیام ہے اور بہ طور ایسوسی ایٹ پروفیسر اپنے تدریسی فرائض ادا کر رہے ہیں۔ لکھنے کا آغاز 1984ء میں افسانہ نگاری سے کیا تھا، پھر شاعری کی طرف متوجہ ہوئے۔ ابتدائی طور پہ غزل کے بعد پابند اور آزاد نظمیں لکھیں اس کے بعد نثری نظم کی طرف متوجہ ہوئے۔ 1999ء میں نثری نظموں کی کتاب ” خواب اور آدمی“ شائع ہوئی۔ نئی کتاب ’’پابُریدہ نظمیں‘‘ زیر ِترتیب ہے۔ مصطفیٰ ارباب اردو کے علاوہ سندھی میں بھی لکھتے ہیں اور سندھی کے مترجم کے طور پر بھی شناخت رکھتے ہیں۔ پاک و ہند کے معروف جرائد میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔